نئی دہلی، 05 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے دفعہ 370 پر اٹھائے گئے حکومت کے فیصلے پر کہا کہ حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کیا، بھروسے پر مکمل طور پردھوکہ۔عمر عبداللہ نے کہاکہ حکومت نے ان تباہ کن فیصلوں کے چال اور غلط طریقے سے حالیہ ہفتوں میں زمین تیار کی۔حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کیا، بھروسے پر مکمل طورپر دھوکہ ہے۔طویل اور مشکل جنگ آگے ہے، ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ وہیں پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہندوستان کشمیر کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔بتا دیں حکومت نے پیر کو جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کو ہٹا دیا۔اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کو دو حصوں میں بانٹ کر جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ الگ مرکزکے زیر انتظام علاقہ قرار دیا گیا ہے۔مفتی نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا حکومت کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔اس سے جموں و کشمیر پر سارے حقوق ہندوستان کو مل جائیں گے۔آج کا دن ہندوستانی جمہوریت کا ایک سیاہ دن ہے۔ 1947 میں دو قوموں کے اصول کو مسترد کرنے اور ہندوستان کے ساتھ جانے کا جموں کشمیر قیادت کا فیصلہ بھاری پڑ گیا۔آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کا حکومت ہند کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جو جموں و کشمیر کو چلانے کا پورا حق ہندوستان کو دے گا۔یہ برصغیر کے لئے تباہ کن نتائج لے کر آئے گا۔ ہندوستان کی سرکار کی منشا صاف ہے۔وہ جموں کشمیر کے لوگوں کو دہشت زدہ کرکے اس پر اپنا حق چاہتے ہیں۔ہندوستان کشمیر کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہا۔پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ ریاست کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات پر میڈیا اور سول سوسائٹی کا جشن نفرت اور پریشان کرنے والا ہے۔ہندوستانی سرکار کی منشا صاف اور بے ایمان ہیں۔وہ ہندوستان میں صرف مسلم اکثریتی ریاستوں کی آبادی کی ساخت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، مسلمانوں کو اس حد تک بے بس بنا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ہی ریاست کے دوسرے درجے کے شہری بن جائیں۔